28 اکتوبر 2026 - 17:01
یمن کی حکومت کے رکن: سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں دوہرا معیار ہے

یمن کی حکومت کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکام اسلام، عقائد اور مقدسات کے دفاع کے نعرے لگاتے ہیں، لیکن معاہدوں کے وقت تیل اور سلامتی کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی حکومت کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کو دوہرے معیار کا مظہر قرار دیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سعودی عرب ایران کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے تو کیا اس معاہدے کی شقوں میں ’’مجوس‘‘، ’’روافض‘‘ اور صحابہ کے مسائل بھی شامل ہوتے ہیں؟ یا مذاکرات صرف اس بات کی ضمانت تک محدود رہتے ہیں کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑ گئی تو ایران سعودی تیل تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا؟

محمد الفرح نے مزید لکھا کہ سعودی عرب کا طرزِ عمل یہی ہے کہ وہ عقائد، مقدسات اور اہلِ ایمان کے بنیادی مسائل کو سامنے لاتا ہے اور اسلام کے دفاع کے نعرے لگاتا ہے۔ ان نعروں کے ذریعے سادہ لوح لوگوں کو جنگ میں حصہ لینے اور اپنی جانیں قربان کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔

لیکن جب معاہدے کرنے کا وقت آتا ہے تو یہ تمام نعرے غائب ہو جاتے ہیں اور تیل و سلامتی کے مفادات کو ہر چیز پر ترجیح دی جاتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha